بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ چھروں سے مسلح افراد نے حملہ کر کے ایک نیلوئے نیل نامی
ایک بلاگر کو قتل کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ شہر کے گوران نامی علاقے میں پیش آیا اور نیلوئے کو ان کی رہائش گاہ پر نشانہ بنایا گیا۔
بنگلہ دیش میں بلاگرز اینڈ ایکٹیوسٹ نیٹ ورک کے سربراہ عمران ایچ سرکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نیلوئے نیل شدت پسندی کے خلاف اٹھنے والی ایک اہم آواز تھے۔
ان کے مطابق نیلوئے نے اپنی تحریروں میں ’بنیاد پرستی، شدت پسندی، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کی تھی۔‘
یہ رواں سال بنگلہ دیش میں کسی بلاگر کو قتل کیے جانے کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔
جنوبی ایشیا کے لیے بی بی سی کی عالمی سروس کے مدیر چارلس ہیویلینڈ کا کہنا ہے کہ نیلوئے کا تعلق ایک ہندو خاندان سے تھا، تاہم قتل کیے جانے والے دیگر بلاگروں کی طرح نیلوئے نہ صرف سیکیولر بلکہ لادین بھی تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ چھ حملہ آور نیلوئے کے مکان میں یہ کہہ کر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے کہ انھیں کرائے پر مکان کی تلاش ہے۔
ڈھاکہ کے نائب پولیس کمشنر منتشرالاسلام کا کہنا ہے کہ ’ان میں سے دو انھیں دوسرے کمرے میں لے گئے اور وہاں انھیں ذبح کر دیا۔‘
بنگلہ دیش میں چوتھے بلاگر کا قتل ۔۔۔۔۔۔!!!
No comments: